گھریلو پلاسٹک خود بنائے

گھریلو پلاسٹک خود بنائے

نامیاتی کیمیا(آرگینک کیمسڑی)نے ہماری زندگی اور رہن سہن کو خاصی حدتک بدل دیاہے۔ہمارے ارد گردبے شمارنامیاتی اشیاء دکھائی دتی ہیں جن کے نام گنوانا محال ہے۔تاہم کچھ نامیاتی اشیاء کی مثالیں یہ ہیں:کتابیں،کاپیاں،کرسیاں،بستے اور جوتے وغرہ۔ان سب چیزوں میں نامیاتی کیمیا کا عمل دخل ہے۔زرا تکنیکی گفتگوں کی جائے تو کاربن کے مخصوص مرکبات کا تفصیلی مطالعہ،نامیاتی کیمیا کے زمرے میں آتا ہے۔ لیکن ساتھیوں!کبھی آپ نے سوچا کہ بھلا کاربن میں ایسی کیابات ہے اس سے بننے والے مرکبات کی ایک خاص جماعت کو کیمیا میں ایک الگ شاخ کا درجہ حاصل ہے۔
بس اتنا سمجھ لیں کہ تمام عناصر میں کاربن ہی وہ عنصرہے جوکیمیا بند بنانے میں ماہر ہے۔اگر کوئی دوسرا عنصربند بنانے کیلئے میسر نہ ہوتو یہ اپنی ہی برادری کے ایٹموں سے جاملتا ہے۔ ہا ئیڈرو کاربن کی لمبی زنجیر پر مبنی مرکبات کو پولیمر کہتے ہیں۔ کاربو ہا ئیڈریٹ، پرو ٹین،تیل اور چکنائیاں دراصل قدرتی پولیمرزہی ہیں۔پلاسٹک مصنوعی پولیم کی مشہور مثال ہے۔

تجربہ کر کے دیکھئے

چلئے جناب! آج گلوبل سائنس کے قارئین کچن میں کھانا بنانے کے بجائے پلاسٹک تیار کریں گے۔اپنے اردگرد نظر دوڑائیے اور جلدی سے یہ سامان اکھٹا کرلیجئے۔
ململ
جار
ایک لیٹر دودھ
سرکہ
چمچہ
چھوٹی پتیلی
سب سے پہلے آدھالیٹر دودھ  پتیلے میں گرام کرلیجئے۔ خیال رہے کہ دودھ کو ابالنا نہیں ہے۔پھر اس میں تین چمچے سرکہ ڈال کر اچھی طرح ہلائیے۔
تھوڑی دیر بعد سفید لچکدار مادہ دودھ میں بننا شروع ہوجائے گا جسے کیسین کہتے ہیں۔اسے ململ کے کپڑے سے چھان لیجئے اور اگر ضرورت پڑے توکپڑے کو اچھی طرح نچوڑ لیجئے تاکہ کیسین الگ ہوجائے۔
اب اس کیسین کو اپنے من پسند سانچے میں ڈال کردو سے چار منٹ تک چھوڑ دیجئے۔یہاں ہم نے اس کیسین کو تتلی کے سانچے میں ڈالا ہے۔
پروٹین کے سالمات رفتہ رفتہ اپنی جگہ جمتے چلے جائیں گے اور چند دن بعد آپ کا بنایا ہوا کیسین ،خشک اور مضبوط ہوتاچلا جائے گا۔
اب آپ اسے سانچے سے نکل کر اس پر کوئی خوبصورت رنگ بھی بھرسکتے ہیں جس کے بعد پلاسٹک کا یہ کھلونا آپ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کوتحفے کے طور پر بھی پیش کرسکتے ہیں۔

Leave a Reply