Home خبریں قطب جنوبی کی زیر زمین جھیل میں آزمائشی ڈرلنگ
Tuesday, 11 September 2012 20:05

قطب جنوبی کی زیر زمین جھیل میں آزمائشی ڈرلنگ

  • The effects in the four-year study from the effect of Avodart on prostate &ndash financed by Glaxo, which markets the drug &ndash often mirror your a ,-participant study in of finasteride Propecia, which found a percent lower incidence of cancer of the prostate among men who took that drug than the type of who took a placebo canadian pharmacy. Appropriate studies performed as of yet have not demonstrated geriatric-specific issues that would limit the usefulness of sildenafil within the elderly Can cialis mg be studied canadian pharmacy. Me and my spouse are tadalafil best price.
    argaiv1263

Rate This Article
(2 votes)

موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں سمندروں میں پانی کی سطح کتنی تیزی سے بلند ہو گی، یہ جانچنے کے لیے ایک برطانوی ٹیم اس سال کے اواخر میں قطب جنوبی پر برف کے نیچے گہرائی میں واقع ایک جھیل میں آزمائشی کھدائی کرے گی۔

Lake Ellsworth نامی جھیل برف کی تین کلومیٹر طویل پٹی کے نیچے اور سطح سمندر سے کئی سو میٹر کی گہرائی میں واقع ہے۔ سائنسدانوں کے خیال میں اِس کی تہہ سے برآمد ہونے والے نمونوں میں سیپیوں کے قدیم خول یا اُن کی باقیات بھی ہو سکتی ہیں، جن کی مدد سے یہ پتہ چلایا جا سکے گا کہ اس سے پہلے برف کی یہ تہہ آخری مرتبہ کب ٹوٹی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قطب جنوبی کے مغربی حصے میں جھیل کو ڈھانپنے والی تہہ میں برف کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ اس تہہ کے ٹوٹنے کے نتیجے میں پوری دنیا میں سمندری پانی کی سطح تین سے لے کر پانچ میٹر تک بلند ہو جائے گی۔ اگر ایسا ہوا تو بنگلہ دیش سے لے کر فلوریڈا تک اور بیونس آئرس سے لے کر شنگھائی تک نشیب میں واقع کئی علاقوں کی بقا خطرے میں پڑ جائے گی۔

برسٹل یونیورسٹی سے وابستہ مارٹن سیگرٹ اس برطانوی تحقیقی ٹیم کے سربراہ ہیں۔ اُن کے مطابق سولہ برسوں کی تیاری کے بعد اب بالآخر اس مشن پر عملدرآمد کا مرحلہ آن پہنچا ہے۔ اُن کے مطابق لوگوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ ’برف کی اس تہہ کے ٹوٹنے کا نتیجہ کن خطرات کی صورت میں برآمد ہو سکتا ہے‘۔ یہ برطانوی ٹیم یہ کھوج بھی لگائے گی کہ سورج کی روشنی سے دور واقع اس جھیل میں زندگی کن اشکال میں موجود ہے۔ صرف برطانیہ ہی نہیں بلکہ روس اور امریکا کے سائنسدان بھی اپنے اپنے طور پر اس علاقے میں آزمائشی کھدائی کے منصوبوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

قطب جنوبی پر گلیشئرز کے نیچے معلوم جھیلوں کی تعداد 360 ہے۔ یہ جھیلیں زمین کے مرکز کی جانب سے آنے والی حرارت کے نتیجے میں برف کی تہہ کے نچلے حصے کے پگھلنے کے باعث وجود میں آئی ہیں۔

برٹش انٹار کٹک سروے کے پروگرام مینیجر کرس ہِل نے بتایا کہ ’یہ برطانوی ٹیم اکتوبر میں قطب جنوبی کے متعلقہ مقام تک پہنچے گی اور امید کی جا رہی ہے کہ اس سال دسمبر میں جھیل کی تہہ سے نمونے واپس سطح زمین پر لائے جا سکیں گے‘۔

زیادہ تر سائنسدانوں کے خیال میں قطب جنوبی کے مغربی حصے کی برف کی تہہ سے بھی زیادہ نازک گرین لینڈ کی برفانی تہہ ہے، جس کے پگھلنے کے نتیجے میں دنیا بھر کے سمندروں میں پانی کی سطح سات میٹر تک بلند ہو سکتی ہے۔

گزشتہ صدی کے دوران سمندروں میں پانی کی سطح میں سترہ سینٹی میٹر کا اضافہ دیکھا گیا جبکہ سائنسدانوں کو رواں صدی کے اختتام تک سمندری پانی کی سطح ایک میٹر تک بلند ہونے کا خدشہ ہے۔

http://www.dw.de

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated.
Basic HTML code is allowed.

تازہ ترین سائنسی مضامین

تازہ ترین سائنسی خبریں