Home خبریں شمسی توانائی سے کھانا پکائیں
Wednesday, 25 July 2012 17:03

شمسی توانائی سے کھانا پکائیں

Rate This Article
(1 Vote)

شمسی توانائی سے کھانا پکائیں

شفیق منہاس

یوں تو دنیا بھر میں شمسی توانائی سے مختلف کام لئے جارہے ہیں لیکن افریقہ کے بیشتر اور ایشیاء کے چند علاقوں میں اب شمسی چولہوں سے کھانا پکانے کا بھی کام لیا جاتا ہے۔ شمسی چولہوں کی مختلف اقسام استعمال کی جاتی ہیں جن میں باکس کوکر، پینل کوکر، سولر کیتلی اور شیفلر کوکر خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ شمسی باکس کی تیاری میں کینیا کے شہری جان بوہمر کا نام لیا جاتا ہے، جنہوں نے عالمی ماحول کو آلودگی سے بچانے کا ایک نہایت آسان اور منفرد طریقہ تلاش کرتے ہوئے ایک ایسا چولہا بنایا جس کے ذریعے دھوپ کو استعمال میں لاتے ہوئے کھانا پکایا جاسکتا ہے۔ اس چولہے کا نام کیوٹو باکس رکھا گیا اور اس کی قیمت ۶ امریکی ڈالر مقرر کی گئی۔ سولر پینل کی ٹیکنولوجی کو استعمال میں لاتے ہوئے ایسا ہی شمسی چولہا سال ۲۰۱۰ء میں ٹیکنولوجی ٹائمز کی جانب سے بھی تیار کیا گیا جس پر صرف ۱۷۰ روپے لاگت آئی، جبکہ اس چولہے کی مدد سے تقریبا ۲ گھنٹوں میں ۴ سے ۶ افراد کیلئے کھانا تیار کیا جاسکتا تھا۔ سال ۲۰۱۰ء میں آنے والے بدترین سیلاب میں ٹیکنولوجی ٹائمز کی جانب سے ایسے متعدد چولہے کندھکوٹ اور کشمور کے قریب واقع توڑی بند کے سیلاب زدگان میں تقسیم کئے گئے تھے جہاں ہر طرف پانی آجانے کے باعث لکڑیاں یا کوئی دوسرا ایندھن استعمال نہیں کیا جاسکتا تھا۔ شمسی چولہے کے استعمال سے دنیا کے ۳ ارب غریب لوگ باآسانی کھانا پکا سکیں گے جس سے نہ صرف ان کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی، بلکہ اس منفرد طریقے کی مدد سے فضاء میں بڑھتی ہوئی زہریلی گیسوں کے اخراج میں بھی کمی واقع ہوگی۔ اس کے علاوہ شمسی چولہے کے استعمال سے بہت سی زندگیاں، جنگلی حیات اور ایندھن کے طور پر استعمال ہونے والے لاتعداد درخت بھی بچائے جاسکتے ہیں۔ جان بوہمر کی جانب سے شمسی چولہوں کے ابتدائی تجربے کیلئے جنوبی افریقہ کے چند ممالک کے علاوہ بھارت اور انڈونیشیا کا انتخاب کیا گیا، تاکہ اس تجربے کے بعد فضاء میں موجود کاربن کی مقدار میں اضافہ یا کمی ریکارڈ کی جاسکے۔ ایسے لوگ جو شمسی چولہے اور خاص طور پر شمسی باکس کی تکنیک سے واقف نہیں، ان کے خیال میں محض چمکدار گتّے کی چند تہیں لگانے سے اسقدر درجہ حرارت کیسے پیدا کیا جاسکتا ہے کہ جس پر کھانا بھی پکایا جسکے۔ دراصل کاغذ یا گتّہ ایک جانب کی حرارت کو دوسری طرف جانے سے روکتا ہے۔ اسے سمجھنے کیلئے گرم چائے کے گلاس کی مثال لی جاسکتی ہے، جسے اگر آپ ہاتھ سے اٹھائیں گے تو گرم ہوگا، لیکن اگر کاغذ یا گتّے سے اٹھائیں گے تو انگلیوں تک پہنچنے والی حرارت قابل برداشت ہوگی، جبکہ نالی دار گتّہ استعمال کرنے کی صورت میں حرارت بالکل محسوس نہیں ہوگی۔ شمسی باکس میں دو طرح کی روشنیاں کارفرما ہوتی ہیں۔ ایک عام روشنی جسے دھوپ کہا جاتا ہے اور ایک وہ روشنی جو نظر نہیں آتی۔ اسے انفرا ریڈ کہا جاتا ہے۔ دھوپ بظاہر کسی جسم کو اتنا گرم نہیں کرسکتی جتنا کہ شمسی باکس کے اندر نظر نہ آنے والی انفرا ریڈ شعائیں گرم کرتی ہیں۔ جب دھوپ کی کرنیں شمسی باکس کی اندرونی سیاہ سطح پر پڑتی ہیں تو یہ سطح ان کرنوں کو جذب کرلیتی ہے اور گرم ہوجاتی ہے۔ اسی سیاہ اندرونی سطح سے حرارت انفرا ریڈ شعاعوں کی شکل میں نمودار ہوتی ہے جو شمسی باکس کے آگے لگائے گئے شیشے کے آرپار نہیں گزرسکتی اور نتیجے میں باکس کے اندر رکھے برتن کو اسقدر گم کردیتی ہے کہ کھانا باآسانی پکایا جاسکے۔ اس شمسی چولہے کا اپنا درجہ حرارت لگاتار نہ بڑھنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جیسے جیسے چولہے کے اندر حرارت جمع ہوتی ہے ویسے ہی کچھ حرارت باہر کی طرف بھی خارج ہوتی ہے اور درجہ حرارت بڑھنے کی صورت میں حرارت کا اخراج بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اسی دوران شمسی چولہے کا درجہ حرارت اس نقطے پر پہنچ جاتا ہے جس کے بعد چولہے کے اندر کا درجہ حرارت مزید نہیں بڑھ سکتا۔ شمسی پینل یا سولر باؤل کی تکنیک میں سورج کی روشنی کو ایک جگہ پر مرکوز کیا جاتا ہے جسے فوکل پوائنٹ کہا جاتا ہے۔ اسی نقطے پر کھانا پکانے کا برتن رکھ دیا جاتا ہے، یا اسے لٹکانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ سادہ شمسی چولہے پر کھانا دو سے ڈھائی گھنٹوں میں جبکہ سولر باؤل پر کھانا تقریبا ۴۰ سے ۵۰ منٹ میں باآسانی تیار ہوجاتا ہے۔

Source: Technologytimes.pk

تازہ ترین سائنسی مضامین

تازہ ترین سائنسی خبریں

مقبول مضامین