Share Your Writing

Write your stories on Pakistan Science Club Blog!

Write your stories on Pak Science Club Blog and Portal

Wednesday, 25 July 2012 16:57

ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے چھوٹے پلانٹس

Rate this item
(0 votes)

ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے چھوٹے پلانٹس


پاکستان میں گزشتہ چند سالوں سے توانائی کے شدید بحران کی زد میں ہے۔ ہمارے یہاں نامعلوم وجوہات کے باعث نہ تو پیداواری گنجائش کے مطابق بجلی پیدا کی جارہی ہے اور نہ ہی متبادل ذرائع کے استعمال پر توجہ دی جارہی ہے۔ دنیا بھر میں بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ہوا کی طاقت کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ نہ صرف یورپ بلکہ ایشیاء میں بھی بڑے ونڈ ٹربائنز کے علاوہ اب چھوٹے پلانٹس کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ یورپی ممالک اور امریکہ کے علاوہ چین اور بھارت کے پہاڑی اور ساحلی علاقوں میں دیوہیکل ونڈ ٹربائن نصب کیے جارہے ہیں جو ہوا کی روانی کے ساتھ گھومتے ہیں اور قریبی علاقوں کیلئے بجلی پیدا کرتے ہیں۔ موجودہ وقت میں ایسے ونڈ ٹربائن بھی دیکھنے میں آئے ہیں جو ۷ ہزار کلو واٹ تک بجلی پیدا کرسکتے ہیں۔ جرمنی میں تیار کئے گئے متعدد ونڈ ٹربائنز کے ذریعے ۴ ہزار گھرانوں کو باآسانی بجلی فراہم کی جاسکتی ہے۔ ہوا کی طاقت سے بجلی پیدا کرنے کے سلسلے میں ایک نیا رجحان یہ ہے کہ اب چھوٹے سائز کے آلات کی تنصیب پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ ان آلات کی مدد سے ۱۰۰ واٹ سے لیکر ۱۰ ہزار واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ اس طرح کے ونڈ ٹربائن اپنے حجم کی مناسبت سے نہ صرف مکانات، اسکولوں، کارخانوں پر نصب کئے جاتے ہیں بلکہ سمندر کا سینہ چیر کر اپنی منزلوں کی جانب رواں دواں کشتیوں میں بھی بلا تعطلل بجلی فراہم کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں اب بھی تقریباً ڈیڑھ ارب انسان ایسے ہیں جنہیں تاحال بجلی کی سہولت میسر نہیں۔ ایسے متعدد علاقوں میں اب چھوٹے حجم کے ونڈ ٹربائن قدرتی ذریعے سے انتہائی سستی بجلی پیدا کرنے کیلئے استعمال کئے جارہے ہیں، جنہیں کسی بھی پختہ مکان کی چھت پر باآسانی نصب کیا جاسکتا ہے۔ آج سے ۱۵ سے ۲۰ سال پہلے تک شمسی توانائی اور ہوا کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کے پلانٹ ابتدائی مراچل میں تھے، لیکن موجودہ زمانے میں ان ذرائع کو بجلی پیدا کرنے کا بہترین متبادل طریقہ قرار دیا جاچکا ہے۔ دنیا بھر میں آبادی بڑھنے کے باعث توانائی کے استعمال میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ جرمنی جیسے ترقی یافتہ ملک میں دیوہیکل پنکھوں والے ونڈ ٹربائن ملک کی مجموعی پیداوار کا ۱۰ فیصد حصہ پیدا کر رہے ہیں، جبکہ ۵ فیصد بجلی شمسی ذریعے سے حاصل کی جارہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سال ۲۰۲۰ء تک جرمنی میں بجلی کی ایک تہائی ضرورت شمسی توانائی اور ہوا کے ذریعے حاصل کی جاسکے گی۔ اس کے علاوہ چین اور منگولیا کے متعدد دیہی علاقوں میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے بیشمار چھوٹے پلانٹ نصب کئے جاچکے ہیں جبکہ امریکہ کی متعدد ریاستوں میں بھی زرعی فارمز پر ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے ایسے چھوٹے پلانٹس کا استعمال بھی عام ہوتا جارہا ہے۔ گھریلو استعمال کیلئے ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے چھوٹے ٹربائنز زیادہ تر چین میں تیار کئے جاتے ہیں اور مقامی طور پر ان ٹربائنز سے دور افتادہ علاقوں میں رہنے والے تقریباً ۱۷ لاکھ ایسے افراد کو بجلی فراہم کی جارہی ہے جنہیں بجلی کا عام کنکشن فراہم کرنا ممکن نہیں۔ چین میں ونڈ ٹربائن تیار کرنے والی ایک نجی کمپنی کا کہنا ہے کہ صرف ۲۰۱۰ء میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے ایک لاکھ ۳۰ ہزار چھوٹے ٹربائن تیار کئے گئے تھے، جن سے ایک تہائی پلانٹ بیرون ملک برآمد کئے جاچکے ہیں۔ امریکہ میں ونڈ ٹربائنز کی صنعت زوروں پر ہے اور ایک اندازے کے مطابق گزشتہ ۳ سال کے دوران کی گئی تحقیق کے نتیجے میں ان پلانٹس کی کارکردگی میں دگنا اضافہ کیا جاچکا ہے۔ ہمارے ملک کے جنوبی علاقوں میں واقع طویل ساحلی پٹی ہوا سے بجلی پیدا کرنے کیلئے انتہائی موزوں تصور کی جاتی ہے، جبکہ ہوا کی یہ روانی ساحل سمندر سے تقریباً ۲۰۰ کلومیٹر شمال تک میسر ہے۔ ایسے میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کیلئے ونڈ ٹربائن کے طریقہ کار کو استعمال میں لاکر ہم نہ صرف توانائی کی ضروریات پوری کرسکتے ہیں بلکہ بجلی پیدا کرنے کیلئے معدنی ایندھن کے استعمال میں بھی نمایاں بچت کرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

بشکریہ: ڈوئچے ویلے

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated.\nBasic HTML code is allowed.

Latest Blog

  • Student Engineering Exhibition 2014 SEE’14

    The College of Engineering at PAF-KIET is holding its 8th Annual Student Engineering Exhibition 2014 (SEE’14) in October, 2014 at PAF-KIET Main Campus, PAF Base Korangi Creek Karachi. This national-level event is an endeavor to provide engineering students with an[…]

مقبول خبریں اور مضامین