Share Your Writing

Write your stories on Pakistan Science Club Blog!

Write your stories on Pak Science Club Blog and Portal

Wednesday, 25 July 2012 16:50

سائنس کے کمالات

Rate this item
(0 votes)

سائنس کے کمالات

تحریر: ڈاکٹر ظہور احمد اعوان

اگر کمپیوٹر سائنس دنیا کا معجزہ ہے تو دنیا کا سب سے بڑا قدرتی کمپیوٹر یعنی انسانی ذہن اپنے ہنر اور کمال میں بے مثال ہے۔ اس کا ایک مظہر دیکھنا ہو تو ٹی وی کے چینل نیشنل جیوگرافک اور ڈسکوری دیکھیں، اور میرے خیال میں جو یہ چینل نہیں دیکھتا وہ خود اپنا ہی مقروض ہے۔ اہل مغرب جس طرح کی سرنگیں سمندر کے اندر اتار رہے ہیں، اور جیسے پل سمندروں کے اوپر بچھا رہے ہیں، انہیں دیکھ کر حیرت بھی انگشت بدنداں رہ جاتی ہے، بے اختیار رب جلیل کی عظمت اور دین کا تصور دو چند ہوجاتا ہے، دہریئے پریشاں اور متشکک خدا کی وحدانیت پر ایمان لے آتے ہیں۔ یہ قدرت کا انعام ہے کہ اس نے انسان کے مختصر دماغ کو اس قدر کمال اور فراست بخشی کہ وہ محیر العقول کارنامے تخلیق کر رہا ہے۔ انسان کو اس لئے اشرف المخلوقات کہا گیا ہے کہ وہ قدرت کے مظاہر کو اظہار کا لبادہ بخش سکے۔ سائنس کے عجائب اور ٹیکنولوجی کے کرشمے دیکھ کر انسان یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ وہ خدا کس قدر عظیم ہوگا جس نے مٹی بھر انسانی ذہن کو اس قدر خصائل سے نوازا۔ یہ سب کمال میرے رب کا ہے، ورنہ انسان کیا اور اس کی بساط کیا۔ مٹی اور راکھ کا ساٹھ سالہ ڈھیر جو بالآخر خود بھی مٹی میں مل جاتا ہے، اس کے بنائے ہوئے کارنامے کئی سوسال تک زندہ و تابندہ رہتے ہیں۔ تاج محل کو دیکھیں، جسے بنے ساڑھے تین سو سال ہوگئے، مگر اس کی چمک دمک آج تک ماند نہیں پڑی، اور نہ ہی کوئی دراڑ سامنے آئی ہے۔ تاج محل کو سالانہ ایک ارب لوگ دیکھنے آتے ہیں اور بھارت کو ایک ارب ڈالر بھی دے کرجاتے ہیں۔ موجودہ وقت میں امریکہ، یورپ حتیٰ کہ مشرق قریب میں بھی سائنس و ٹیکنولوجی اس قدر ترقی کر چکی ہے اور ایسے کارنامے سرانجام دیئے جارہے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ سمندروں کو سمندروں سے اور ملکوں کو ملکوں سے ملایا جا رہا ہے۔ ہالینڈ اور برطانیہ دو الگ ممالک ہیں جن کے بیچ میں ایک زور آور سمندر حائل ہے، لیکن ان دونوں ممالک کو اندر ہی اندر اس طرح ملادیا گیا ہے کہ ہالینڈ سے داخل ہونے والا کوئی بھی شخص راستے میں پانی کا ایک قطرہ تک نہیں دیکھتا اور برطانیہ پہنچ جاتا ہے۔ موبائل فون کی مثال دیکھ لیں۔ یہ انقلاب ہماری نگاہوں کے سامنے وقوع پذیر ہوا، اور اب صرف ایک بٹن دبانے سے آپ چند سیکنڈ میں قطب شمالی پہنچ جاتے ہیں۔ موبائل فون کی ایجاد کے بعد انسانی زندگی میں اس قدر تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں کہ آج کا انسان یہ سوچتا ہے کہ آخر دنیا اب تک اس کے بغیر زندہ کیسی رہی؟ کمپیوٹر کو دیکھیں تو وہ چند ہی منٹوں میں سینکڑوں تصاویر اور ہزارہا صفحات کی کتابیں صرف بٹن دبانے سے پاکستان سے امریکہ پہنچا سکتا ہے۔ کمپیوٹر ہی کے ذریعے میگا تعمیراتی عجائبات کے ساتھ سمندری سرنگوں اور پلوں کے ایک ایک پرزے کو دیکھ کر اس کی مرمت کی جاسکتی ہے۔ کئی فٹ قطر کے آہنی رسوں کی مدد سے میلوں طویل پل بنائے جا رہے ہیں، کئی سو منزلہ عمارتیں تعمیر کی جارہی ہیں، کسی بھی عمارت کی پوری منزلیں زمین پر تیار کرکے اسے کھلونے کی طرح باآسانی ایک دوسرے کے اوپر رکھا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں ہونے والے تعمیراتی کاموں میں کمپیوٹر کا بھرپور استعمال کیا جارہا ہے، دولت پانی کی طرح بہائی جا رہی ہے اور زمین کو خوبصورتی سے سجایا جا رہا ہے۔ بڑے بڑے ڈیم بن رہے ہیں۔ ان حقائق کو ایک طرف رکھ کر اگر ہم اپنے ملک کی طرف دیکھیں تو ہمیں آج تک نہ حکومت کرنا آئی اور نہ ہی ٹھیک سے کمپیوٹر استعمال کرنا جان سکے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے ملک میں کمپیوٹر بھی دھاندلیوں کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ اگر ہم دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں نہیں جاسکتے تو چند سو روپے ماہوار پر کیبل لگوا کر دنیا بھر کے عجائبات کو گھر بیٹھے اپنی آنکھوں سے تو دیکھ سکتے ہیں۔ جو قدامت پسند گھرانے کیبل پر چلنے والی فلمیں اور انگریزی پروگرام نہیں دیکھنا چاہئے وہ ان چینلز کو بلاک کرکے بقول شخصے پاک صاف علمی اور عالمی پروگرام دیکھ سکتے ہیں۔ افسوس کہ دنیا ہمارے سامنے بانہیں پھیلائے کھڑی ہے، لیکن ہم نے اپنے اوپر علم و معلومات کے دریچے خود بند کر رکھے ہیں۔ کیبل پر صرف فلمیں اور ڈرامے ہی نہیں بلکہ قرآن چینل بھی موجود ہے، مذہبی پروگرام بھی چلتے ہیں۔ اس بات پر بہرحال دکھ ہوتا ہے کہ مذہب کو بھی زبانوں اور ملکوں کے خانوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔ پاکستان میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کا پیس چینل صرف اس لئے بند کردیا گیا کیونکہ وہ بھارت سے نشر ہوتا ہے۔ یہ ہیں ہماری کارستانیاں، کہ ہم اچھی چیزوں اور ایجادات سے بھی صرف اپنے مطلب کی برائیاں ہی اخذ کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں عام تصور یہ ہے کہ مغرب صرف عیاشی اور فحاشی کا دوسرا نام ہے، لیکن کوئی وہاں جاکر تو دیکھے کہ دراصل اخلاق و کردار کیا ہے اور زندگی کسے کہتے ہیں۔ میڈیا پر سب کچھ آتا ہے، لیکن ہم وہی دیکھتے ہیں جو ہمیں کنوئیں کے مینڈک کی طرح محدود پانی میں چکر لگا کر ٹرٹراتے رہنے اور ساری دنیا کو اپنی منفی سوچ کی بنا پر برا سمجھنے پر مجبور کردیتا ہے۔ میں مغرب پرستی کا حامی نہیں، لیکن یہ ضرور کہتا ہوں کہ کنویں سے نکل کر خدا کی باقی سرزمین کو بھی دیکھنا چاہئے۔ اپنے ذہن کو اس بات پر آمادہ کرنا چاہئے کہ خدا رب المسلمین نہیں بلکہ رب العالمین ہے۔ وہ کسی ہندو، سکھ، عیسائی یا بدھ مت کے پیروکار کا بھی اسی طرح خدا ہے جس طرح مسلمانوں کا۔ علم پور ی انسانیت کی اور خاص طور پر مومن کی کھوئی ہوئی میراث ہے۔ اسے آگے بڑھ کر سینے سے لگالینا چاہئے۔

 

source:technologytimes.pk

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated.\nBasic HTML code is allowed.

Latest Blog

  • Student Engineering Exhibition 2014 SEE’14

    The College of Engineering at PAF-KIET is holding its 8th Annual Student Engineering Exhibition 2014 (SEE’14) in October, 2014 at PAF-KIET Main Campus, PAF Base Korangi Creek Karachi. This national-level event is an endeavor to provide engineering students with an[…]

مقبول خبریں اور مضامین