Share Your Writing

Write your stories on Pakistan Science Club Blog!

Write your stories on Pak Science Club Blog and Portal

Saturday, 26 May 2012 06:05

یورپ کی سب سے بڑی شمسی دوربین نے کام شروع کردیا

Rate this item
(1 Vote)
یورپ کی سب سے بڑی شمسی دوربین نے کام شروع کردیا - 5.0 out of 5 based on 1 vote

اسپین کے کینیری جزائر پر نصب کی جانے والی یورپ کی سب سے بڑی شمسی دوربین نے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اب انہیں سورج کے بارے میں وہ تمام تر تفصیلات جاننے کا موقع مل سکے گا جو اس سے قبل دستیاب نہیں تھیں۔

گریگور نامی اس دوربین کے آئینے کا قطر 1.5 میٹر یعنی 4.9 فٹ ہے۔ کینیری جزائر کے ایسٹروفزیکل انسٹیٹیوٹ کے ایک بیان کے مطابق اس دوربین کی مدد سے سورج کی سطح پر موجود ایسے جغرافیائی اسٹرکچرز یا تفصیلات کا مشاہدہ کرنا بھی ممکن ہو جائے گا جن کا قطر قریب 70 کلومیٹر تک ہوگا۔

یہ دوربین ٹینیریف Tenerife نامی جزیرے پر ایک جرمن کنسورشیم کی طرف سے تعمیر کی گئی ہے اور اس پر 12.85 ملین یورو کی لاگت آئی ہے۔ یہ رقم 16.4 ملین امریکی ڈالرز کے برابر بنتی ہے۔ کنسورشیم کی سربراہی فرائی برگ شہر میں قائم کیپن ہوئر Kiepenheuer انسٹیٹیوٹ برائے سولر فزکس نے کی ہے اور دوربین پر اٹھنے والی لاگت کا زیادہ تر حصہ بھی اسی انسٹیٹیوٹ نے فراہم کیا ہے۔

بیان کے مطابق اس دوربین کی جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے جرمن، ہسپانوی اور دیگر ممالک کے سائنسدانوں کی سورج کے بارے میں ان تفصیلات تک رسائی ممکن ہوجائے گی جو اب تک قابل رسائی نہیں تھیں۔

اس بیان میں مزید بتایا گیا ہےکہ اس کے آئینے کے بڑے قطر کے علاوہ اس دوربین کی ایک اور خاص بات اس کی حرکت کرنے والی چھت بھی ہے جس سے اس کے بصری راستے میں ہوا کی مداخلت کم سے کم ہو جاتی ہے۔ اس طرح یہ دوربین اس حد تک واضح تصاویر حاصل کرسکتی ہے جو اب تک زمین پر نصب کسی اور دور بین سے حاصل کرنا ممکن نہیں تھا۔

کینیری جزائر کے ایسٹروفزیکل انسٹیٹیوٹ کے اس بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ شمسی دوربین یورپ کی سب سے بڑی جبکہ دنیا کی تیسری سب سے بڑی دوربین ہے۔ کیپن ہوئر انسٹیٹیوٹ برائے سولر فزکس کے ڈائریکٹر اوسکار فان ڈئر لُوہے Oskar von der Luhe کے بقول ’گریگور کو خاص طور پر سورج کی سطح پر ہونے والے طبیعاتی عوامل کا مشاہدہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔‘ فان ڈئر لُوہے مزید کہتے ہیں، ’سورج کی سطحی تہوں میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے اس کی سطح سے توانائی پیدا ہوتی ہے اور خلا میں پھیل جاتی ہے، بعض مواقع پر یہ توانائی زمین تک بھی پہنچ جاتی ہے۔‘

اس دوربین کو گریگور کا نام 17 صدی عیسوی کے اسکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے معروف ریاضی دان اور ماہر فلکیات جیمز گریگوری کی نسبت سے دیا گیا ہے۔ اس دوربین کو رات کے وقت ستاروں کے مشاہدے کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔

source:www.dw.de

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated.\nBasic HTML code is allowed.

Latest Blog

  • Student Engineering Exhibition 2014 SEE’14

    The College of Engineering at PAF-KIET is holding its 8th Annual Student Engineering Exhibition 2014 (SEE’14) in October, 2014 at PAF-KIET Main Campus, PAF Base Korangi Creek Karachi. This national-level event is an endeavor to provide engineering students with an[…]

مقبول خبریں اور مضامین