Home خبریں آلودگی سے دل کا دورہ پڑنے کا امکان زیادہ
Wednesday, 15 February 2012 17:11

آلودگی سے دل کا دورہ پڑنے کا امکان زیادہ

  • nariz tupida buy cialis cheap. Within a randomized clinical test of adjuvant arginine g day in ovarian hyperstimulation, recruitment of follicles increased but embryo quality and pregnancy rate were higher inside the placebo armWhen you have doubts about negative effects, get hold of your health professional cialis non generic.
    argaiv1507

Rate This Article
(0 votes)

ایک فرانسیسی تجزیے میں کہا گیا ہے کہ آلودہ ہوا میں سانس لینے سے چند روز بعد دل کا دورہ پڑنے کا امکان زیادہ ہو سکتا ہے۔

Paris Cardiovascular Research Center کی سائنسدان Hazrije Mustafic کی زیر قیادت ٹیم کی یہ تحقیق امیریکن جرنل آف میڈیکل ایسوسی ایشن میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اوزون کے سوا ہر قسم کی آلودہ ہوا کی بلند سطح میں سانس لینے سے دل کے دوروں کا امکان کچھ زیادہ ہو جاتا ہے۔

تحقیق کے دوران ماضی میں صنعتی اور ٹریفک سے متعلقہ فضائی آلودگی کے باعث دل کا دورہ پڑنے کے 34 مطالعوں کا تقابلی جائزہ لیا گیا۔ ان سابقہ مطالعوں میں چار سو سے تین لاکھ تک افراد کے اعداد و شمار موجود تھے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آلودہ ہوا میں سانس لینے سے امراض قلب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

زیادہ تر آلودہ اجزاء میں 10مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر ہوا کے ارتکاز میں اضافے سے دل کا دورہ پڑنے کے امکان میں ایک تا تین فیصد اضافہ ہو جاتا ہے۔

سائنس دان Hazrije Mustafic نے روئٹرز ہیلتھ سے گفتگو میں کہا، ’’چاہے اس کے تمباکو نوشی، ہائپر ٹینشن یا ذیابیطس جیسے روایتی عوامل کے مقابلے میں خطرات کم بھی ہیں مگر صنعتی ملکوں میں ہر شخص فضائی آلودگی کا شکار ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ جب لوگ آلودہ ہوا میں سانس لیتے ہیں تو چھوٹے چھوٹے ذرات پھیپھڑوں میں موجود ننھی تھیلیوں تک پہنچ سکتے ہیں اور یوں وہ خون کے بہاؤ کے ذریعے دل تک پہنچ جاتے ہیں۔

ماہرین صحت کے بقول آلودگی کے خطرات تمباکو نوشی اور دیگر عوامل کے مقابلے میں کچھ کم ہیں مگر موجود ضرور ہیں

یہ ذرات خون کی شریانوں کی پھولنے اور پچکنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کر سکتے ہیں جو کہ خون کے دباؤ کو مستقل رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

کولمبس کی اوہایو اسٹیٹ یونیورسٹی میں آلودگی اور امراض قلب پر تحقیق کرنے والے سنجے راجہ گوپالن نے کہا، ’’اگر آپ تمام شواہد کو ایک جگہ رکھیں تو روز بروز آلودہ ذرات کے ارتکاز سے امراض قلب کے واقعات میں بہت تھوڑا مگر نمایاں فرق پڑتا ہے۔‘‘

انہوں نے روئٹرز ہیلتھ کو بتایا کہ یہ خاص طور پر ان افراد میں زیادہ نظر آتا ہے جن میں پہلے سے دل کا عارضہ موجود ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دل کے امراض کے شکار افراد کو ہر ممکن حد تک آلودگی سے بچنے کی کوششیں کرنی چاہییں۔

 

Source:http://www.dw.de/

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated.
Basic HTML code is allowed.

تازہ ترین سائنسی مضامین

تازہ ترین سائنسی خبریں