Share Your Writing

Write your stories on Pakistan Science Club Blog!

Write your stories on Pak Science Club Blog and Portal

Saturday, 25 December 2010 07:58

پاکستان میں کھجور کی فصل

Rate this item
(0 votes)

پاکستان میں کھجور کی فصل

رپورٹ:اسامہ طلعت

کھجور کو اس کرہ ارض پر کاشت کئے جانے والے اولین پھلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ کھجور میں بے پناہ توانائی اور طاقت پوشیدہ ہے اس کے مستقل استعمال سے کاربوئیڈریٹس، وٹامن اے اوربی، پوٹاشیم، کیلشیم، آئرن زنک اور ریشہ انسانی جسم کو تندرست و توانا رکھتا ہے۔ کھجور کی کاشت کئی صدیوں سے چلی آرہی ہے، ایک فرانسیسی ماہر نباتات کے مطابق قبل مسیح میں کھجور کی کاشت کا سلسلہ مغربی افریقہ کے ملک سینی گال سے لیکر جنوبی ایشیا میں دریاسندھ کے طاس تک پھیلا ہوا تھا۔
سن ۱۹۲۲ ء میں موہن جو دڑو کی کھدائی کے دوران ملنے والے آثار سے پتا چلتا ہے کہ بالائی سندھ کا علاقہ گزشتہ کئی ہزار سالوں سے کھجور کی کاشت اور پیداوار کا مرکز رہا ہے۔کھجور کی پیداوار میں روز بروز تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے، دنیابھر میں مجموعی طور پر سن۱۹۶۵ء میں اس کی پیداوار کا تخمینہ ایک اعشاریہ ۸۵ملین ٹن لگایا گیا تھا جو۱۹۹۰تک بڑھ کر تین اعشاریہ ایک ملین ٹن تک جا پہنچا تھا اس رفتار سے کھجور کی پیداوار عالمی سطح پر ۲۰۰۵میں سات ملین ٹن تک پہنچ چکی تھی۔ پاکستان کا شمار دنیا میں کھجور پیدا کرنے والے ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے، یہاں کھجور کی سالانہ پیداوار ایک جائزے کے مطابق ۹ لاکھ ٹن سے زائد ہے۔ پاکستان میں کھجور کی کل پیداوار کا رقبہ تقریباَ۸۲ہزار ہیکٹر ہے جس سے تقریباََ ۱۵۰اقسام کی کم وبیش سندھ میں۵لاکھ ٹن سے زائد، بلوچستان میں ڈیڑھ لاکھ ٹن سے زائد، پنجاب میں ۴۲ہزار ٹن سے زائد اور خیبر پختونخواہ میں۸ہزار ٹن سے زائدکھجور کی پیداوار ہوتی ہے۔ صرف مکران ڈویڑن میں۱۳۰سے زائد اقسام کی کھجور کاشت کی جاتی ہے۔ سکھر، خیرپورسمیت گردونواح کے علاقوں میں ایک لاکھ ایکڑ سے زائد رقبہ پر کھجور کی فصل کاشت کی جاتی ہے جس سے کم و بیش۳لاکھ ٹن پیدا ہوتی ہے جو ملک کے علاوہ بیرون ممالک بھی درآمد کی جاتی ہے۔ کھجور کی فصل سے مقامی کاشتکار اور تاجر سالانہ کروڑوں روپے کا کاروبار کرتے ہیں۔
مئی کے آخر سے ہی سکھر و گردونواح میں پیدا ہونے والی کھجی کو چھوہارے اور کھجور میں تبدیل کرنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے، سکھر، خیر پور، گمبٹ، کھڑا، ببرلو، پیر جوگوٹھ اور روہڑی سمیت مضافاتی علاقوں میں موجود ایک لاکھ ایکڑ سے زائد رقبہ پر تیار ہونے والی کم وبیش 3 لاکھ ٹن کھجی کی پیداوار ہوتی ہے جسے کھجور اور چھوہارے میں تبدیل کرنے کے لئے محنت کش سرگرم ہوجاتے ہیں۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے سرحدی اضلاع کے دیہاتوں کے ہزاروں مرد ، خواتین اور بچے بھی پیٹ کی بھوک مٹانے کی خاطر سکھر و گردونواح کا رخ کرتے ہیں اوریہاں شدید گرمی میں مختلف مقامات پر محنت مزدوری کرتے نظر آتے ہیں جہاں وہ درخت سے کھجی اتارنے، کھجی خوشوں سے الگ کرنے،دریاں بچھانے، برتن چلانے، کھجور دریوں پر پھیلانے سمیت دیگر کام کرتے ہیں جبکہ خواتین بعد میں خراب اور معیاری کھجور، چھوہاروں کو چھانٹ کر الگ الگ کرتی ہیں۔
بڑے بڑے برتنوں میں لاکھوں من کھجی کو چھوہارے میں تبدیل کرنے والے محنت کشوں نے بتایا کہ ہم ہر سال تین ماہ کے لئے اپنے علاقوں سے ہجرت کرکے یہاں روزی روٹی کمانے آتے ہیں۔ یہاں ہم اعلیٰ نسل کی کھجی کو سوڈے، پھٹکری ودیگر کیمیکلز کی مدد سے برتنوں میں ابال کر دیسی طریقے سے چھوہارہ تیار کرتے ہیں۔ سیزن کے دوران سب سے زیادہ فائدہ بیرونی علاقوں سے آنے والے محنت کشوں کا ہوتا ہے جو یومیہ ۲۰۰سو سے۵۰۰ تک اجرت حاصل کرتے ہیں۔ زمینداروں و کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ سکھر و خیرپور میں موجود ایک لاکھ ایکڑ سے زائد رقبہ پر مئی کے آخر میں شروع ہونے والے سیزن کے دوران باغات سے اترنے والی کھجی میں اصیل، کربلا، نوری، خپڑو، کھر، ہوا والی، خرمہ، ڈیڈی، ڈنگ، زردی، بیگن و دیگر نسل کی کم و بیش۳لاکھ ٹن کھجی کی پیداوار ہوتی ہے جسے چھوہارے اور کھجور میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ 
کاشتکاروں اور زمینداروں کو بہتر معلومات کی عدم فراہمی کے باعث ملک میں پیدا ہونے والی کھجور میں سے ۲۲فیصد فصل ضائع ہوجاتی ہے ۔پاکستان میں کھجور کی فصل کا تعلق مون سون کی بارشوں سے ہوتا ہے جو بلا شبہ ایک خطرناک صورتحال ہے جس کی وجہ سے ہر سال کھجور کی فصل اور پیداوار سے متعلق کاشتکاروں اور زمینداروں کو بے پناہ نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے کیونکہ بارش کا پانی کھجور کی فصل کو تباہ برباد کرکے رکھ دیتا ہے جس کے اثرات برآمدات پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اس سے بچنے کی موثر تدبیر یہی ہے کہ جب مون سون کی بارشوں کے دوران کھجور کی فصل تیاری کے آخری مراحل میں ہوتو اس کے خوشوں کو نفت کی تہہ چڑھائی ہوئی تھلیوں سے اس طرح ڈھانک دیا جائے کہ بارش کا پانی کھجور کو خراب نہ کرسکے یہ طریقہ کار بلاشبہ کافی مہنگا سہی لیکن کھجور کی فصل کو فطرت کے رحم وکرم پر چھوڑ دینا اس سے بھی زیادہ مہنگا ثابت ہوتا ہے۔
پاکستان دنیا بھر میں کھجور پیدا کرنے والے ممالک میں پانچویں نمبر پر ہونے کے باوجود اس کی کھجور کی کوالٹی کے سبب برآمدات اس طرح نہیں ہے جس طرح ہونی چاہیئے۔ پاکستان میں اعلیٰ نسل کی کھجور کی پیداوار ہونے کے برعکس رمضان المبارک کے دوران یہاں دستیاب ہونے والی کھجور اتنی ناقص و غیر معیاری ہوتی ہے جو کھانے کے قابل بھی نہیں ہوتی۔ہمارے ہاں کاشتکار کھجور کو خشک کرنے کی غرض سے سورج کی دھوپ کا استعمال کرتے ہیں جو بارشوں کی صورت میں تباہی کا باعث بنتی ہے اور اس عمل سے کھجور کو خشک ہونے میں پانچ روز کا عرصہ درکار ہوتا ہے جبکہ شمسی توانائی کا استعمال کرتے ہوئے اس عمل کو آٹھ گھنٹہ میں مکمل کیا جاسکتا ہے۔ 
حال ہی میں حکومت نے کھجور کو خشک کرنے کا پلا نٹ سندھ میں لگایا ہے،اب حکومت کھجور کی کوالٹی اور معیار کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ کھجور کو آئندہ کے لئے محفوظ کرنے کے لئے بھی حکومت کی جانب سے اقدامات پر غور کیاجارہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ کو کھجور کی پیداوار اور برآمدات کو بڑھانا ہے تو کاشتکاروں کو بین االاقوامی مارکیٹوں تک رسائی دلانی ہوگی اورشمسی توانائی کے نظام کا استعمال کرتے ہوئے کھجوروں کو خشک کرنے والے مزید پلانٹ لگانا ہونگے تاکہ کھجور کو مون سون اوراس کے علاوہ ہونے والے موسمی اثرات سے بچایا جاسکے جبکہ مقامی کاشتکاروں اور کھجور کی صنعت کو فروغ دینے کے لئے ہر سال یکم اگست کو کھجور کی فصل کا دن منایا جائے تاکہ کھجور کی صنعت بین الاقوامی سطح پر روشناس ہوسکے۔


بشکریہ پاک میڈیا اپڈیٹس

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated.\nBasic HTML code is allowed.

Latest Blog

  • Student Engineering Exhibition 2014 SEE’14

    The College of Engineering at PAF-KIET is holding its 8th Annual Student Engineering Exhibition 2014 (SEE’14) in October, 2014 at PAF-KIET Main Campus, PAF Base Korangi Creek Karachi. This national-level event is an endeavor to provide engineering students with an[…]

مقبول خبریں اور مضامین