اس نئی تحقیق سے سب سے پہلے فائدہ جاپان کے وہ کسان اٹھا سکیں گے جن کی چاول کی فصلیں گزشتہ برس سونامی کی تباہ کاریوں کی وجہ سے تباہ ہو گئی تھیں۔
نئی تحقیق جینیاتی تبدیلی کیے بغیر ڈی این اے کے ان حصوں کی طرف نشاندہی کرتی ہے جو کہ پودے کی بعض خصوصیات کا محرک ہوتی ہیں۔ اس تحقیق کو سامنے رکھتے ہوئے ماہرین آزمودہ ذرائع کے ذریعے فصل کو نہ صرف بہتر بنا سکیں گے بلکہ یہ فصل کم وقت میں بھی تیار کی جا سکے گی۔
یہ تحقیق اواٹے کے بائیو ٹیکنالوجی ریسرچ سینٹر کے محققین نے کی ہے۔ ان محققین کے مطابق یہ نیا عمل کاشت کاروں کے لیے فصل کی تیاری میں وقت بچانے کی وجہ بنے گا۔ روایتی طور پر کسان پودوں کی کئی اقسام اور نسلوں کے اختلاط سے ایسے نتائج حاصل کرتے ہیں جو کہ ان کی فصلوں کے لیے سود مند ہوتے ہیں، تاہم نئی تحقیق سے صرف انہی جینز پر کام کیا جا سکے گا جو کہ فصل کو بہتر بنا سکیں گے۔ اس سے ماحولیاتی تبدیلی کے فصلوں پر پڑنے والے اثرات سے بھی نمٹا جا سکے گا۔
گزشتہ اکتوبر میں اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اے نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ اگلی صدی تک دنیا کی آبادی کم از کم دس بلین ہو جائے گی، اور اس کے پندرہ بلین تک پہنچنے کا بھی امکان ہے۔ محققین کے مطابق آبادی میں اضافے سے دنیا کی غذائی ضروریات میں بھی زبردست اضافہ ہوگا لہٰذا اس نوعیت کی تحقیق سے غذائی قلت پر قابو پانے میں بھی مدد مل سکے گی
Source:http://www.dw-world.de








