زمین کے اندرونی حصے کے اہم جزو آئرن آکسائیڈ میں شدید دباو اور انتہائی اونچے درجہ حرارت کے نتیجے میں انوکھی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ سائنسدانوں نے جب آئرن آکسائڈ کو ایک ہزار چھ سو پچاس ڈگری سنٹی گریڈ تک گرم کیا اور اس پر سطحِ سمندر سے چھ لاکھ ننانوے ہزار گنا زیادہ دباو ڈالا گیا تو اس کی برقی خصوصیات تو تبدیل ہوگئی لیکن اس کی ساخت برقرار رہی۔ شدید قدرتی ماحول میں مادہ ایسی تبدیلیوں سے گزرتا ہے، تاہم عموماً برقی خصوصیات کی تبدیلی کے ہمراہ مادے کی ساخت میں بھی تبدیلی آتی ہے۔ محققین کے مطابق آئرن آکسائیڈ کی دھاتی ساخت میں تبدیلی نہ ہونا ایک غیر متوقع نتیجہ تھا۔اس تحقیق سے دنیا کے مرکزی منطقے اور اس کے مقناطیسی اثرات کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہوں گی اور کرہ ارض کی مقناطیسی خصوصیات کو بھی بہتر طور پر سمجھا جا سکے گا۔ان غیرعمومی تبدیلیوں کی وجہ ایٹموں کا کرسٹل انداز میں مرتب ہونا یا پھر ایٹموں کے اندر ہی مزید چھوٹے ذرات کی ترتیب ہو سکتی ہے
source:www.technologytimes.pk







