Share Your Writing

Write your stories on Pakistan Science Club Blog!

Write your stories on Pak Science Club Blog and Portal

Featured Project

  • How To Make Pulse Counter
    How To Make Pulse Counter How To Make Pulse Counter The rhythmical dilation of arteries produced when blood is pumped outward by regular contractions of the heart, especially as palpated…
  • Experiment with burning candle at both ends
    Experiment with burning candle at both ends Materials neededCandle Match Toothpicks Water glasses ProcedureProcedure Prepare a candle so the wick may be lighted at both ends. Insert round toothpicks into the candle…
Monday, 26 December 2011 17:24

قدرتی گیس، آبی ذخائر اور آلودگی

Rate this item
(0 votes)

سائنس اور ٹکنولوجی کی ترقی جہاں انسانوں کے لئے بے پناہ آسائشیں اور سہولیا ت کا سامان فراہم کر رہی ہیں تو وہیں انسانوں کے لئے نئے مسائل اور نت نئی بیماریوں کو پیدا کرنے کا بھی سبب بن رہی ہے۔ گزشتہ دہائیوں میں ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک نے زیر سمندر اور زیر زمین جو ایٹمی تجربات کئے ہیں انکے نتیجے میں زمین کی سطح کے نیچے واقع ٹیکٹونک فالٹس میں شدید ٹوٹ پھوٹ واقع ہوئی ہے اور مسلسل ہورہی ہے جسکے نتیجے میں آج کے دور میں شاید ہی ایسا کوئی دن جاتا ہو جب ہمیں دینا کے کسی نہ کسی ملک میں آنے والے زلزلے کی خبر نہ ملتی ہو روزانہ ہی دنیا کی کسی نہ کسی گوشے سے مختلف درجوں کے زلزلوں کی آمد کی اطلاعات اک تسلسل سے موصول ہورہی ہیں۔ دفاعی لیبارٹریوں میں تیار کی جانے والی بےشمار حیاتیاتی گیسز کے سبب بھی ایسی بےشمار بیماریاں عالم وجود میں آکر بنی نوع انسان کی تکلیف اور تباہی کا سبب بن رہی ہیں جن کے بارے میں ماضی میں کبھی سنا بھی نہ تھازرعی شعبوںمیں کیمیائی کھاد کے استعمال سے فصلیں جلد تیار ہوجاتی ہیں اور اناج، سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار پہلے کی نسبت کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے مگر کھاد میں موجود کیمیائی اجزاءکے زریعے غیر فطری طریقہ سے زیادہ پیداوار کے حصول کے لالچ نے غذا میں موجود انسانی جسم کو قوت دینے والے قدرتی اجزاءمیں کمی پیدا کردی ہے جسکے باعث آج کے انسان میں قوت مدافعت کی کمی واقع ہورہی ہے اور وہ نت نئی بیماریوں کا باآسانی شکار بن رہا ہے۔ اسی طرح دودھ دینے والے جانوروں کو ایسے انجکشن لگائے جارہے ہیں جن کی وجہ سے انکے جسم میں دودھ کی پیدائش میں غیر فطری اضافہ ہورہا ہے اور وہ زیادہ دودھ دینے لگے ہیں مگر کیمیائی اجزاءسے مرکب یہ دودھ انسان کو طاقت و صحت عطاکرنے کی بجائے نقصان کا سبب بن رہا ہے علاوہ ازیں ایسے انجکشن بھی جانوروں کو لگائے جارہے ہیں جن کے باعث انکے جسم میں گوشت کی مقدار بھی غیر فطری انداز میں بڑھ جاتی ہے جانوروں کے تاجروں کو اس طریقے سے زیادہ پیسے مل جاتے ہیں مگر اس قسم کا گوشت استعمال کرنے والے نت نئی بیماریوں کا شکار ہوکردائمی مریض بن جاتے ہیں۔ پانی روئے زمیں پر انسانی، حیوانی اور نباتاتی حیات کی بقاءاور تسلسل کے لئے ایک بنیادی اور لازمی عنصر مانا جاتا ہے جن کے ذخائر میں موجودہ دور میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے اور کہا جارہا ہے کہ مستقبل میں دنیا میں جنگوں کا سبب پانی ہوگا اور وہی قوم خوشحال اور طاقتور سمجھی جائے گی جسکے پاس پانی کے وافر زخائر موجود ہونگے۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشمیر کا دیرینہ مسئلہ تو چل ہی رہا ہے مگرپانی کے تعلق سے موجودہ بین الاقوامی حالات کے تناظر میں اب دونو ں ممالک کے درمیان پانی کو لے کر ایک نیامسئلہ پیدا ہوگیا ہے جسے حل کرنے کے لئے دونوںممالک کے درمیان مسلسل بات چیت کا عمل جاری ہے اوروہ مسئلہ بھارت کا اپنی سرزمین سے نکلنے والے ان دریاوں پر بند باندھ کر پاکستان کو اس پانی سے محروم کرنےکی مذموم سازش کے باعث پیدا ہوا ہے اور اگر بین الاقوامی تعاون سے یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو خدشہ ہے کہ یہ تنازع آئندہ پاک بھارت جنگ کا سبب نہ بن جائے اور دونوں ممالک اپنی اگلی جنگ کشمیر یا ممبئی جیسے دہشت گردی کے واقع کے سبب نہ لڑیں بلکہ بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے نتیجے میں پاکستان میں متوقع پانی کے زخائر میں قلت دونوں ممالک کی افواج کو ایک دوسرے کے سامنے لاکھڑا کر سکتی ہے۔ جہاں دنیا آنے والے دنوں میں پانی کی قلت کے خدشات کو لے کر پریشان ہے وہاں امریکہ میں زیر زمیں قدرتی گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیز نے زمین کی تہہ میں موجود بچے کچے آبی زخائر کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے اور ان میں خطرناک گیسز کی ملاوٹ کے باعث وہ انسانی استعمال کے لئے انتہائی ناموزوں اور خطرناک حد تک زہریلا ہوتاجارہا ہے اس سلسلے میں حال ہی میں سامنے آنے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں پہلی بار سائنسی بنیادوں پرایسے شواہد پیش کئے گئے ہیں جن سے پتہ لگا ہے کہ قدرتی گیس کے حصول کے لئے کی جانے والی ڈرلنگ کا موجودہ متنازع طریقہ کار زیر زمین آبی ذخائر کی آلودگی کا سبب بن سکتا ہے۔ نیشنل اکیڈمی آف سائنس کے تحت شائع ہونےوالی رپورٹ کے مطابق وہ کنویں جو ڈرلنگ کے مقام سے ایک کیلومیٹر سے کم مسافت پر واقع ہیں ان میں میتھن گیس کی مقدار ان کنوﺅں کے مقابلے میں ۷۱ (سترہ) گنا زیادہ پائی گئی ہے جو کھدائی کے مقام سے نسبتا زیادہ دوری پر واقع ہیں واضح رہے کہ میتھن زہریلی گیس کے طور پر نہیںجانی جاتی مگر بیرونی طور پر اس کی زیادہ مقدار دھماکہ خیز ہوتی ہے اور انسانی جسم میں اسکی زیادہ مقدار پہنچنے سے متاثرہ شخص بےہوش ہوسکتا ہے اور اسکی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ تیل اور گیس کی تلاش پاکستان سمیت امریکا اور دیگر ممالک تک پھیل گئی ہے اوراس صنعت سے وابستہ بین الاقوامی کمپنیز نے اپنی تلاش کا دائرہ ہر اس جگہ تک پھیلا دیا ہے جہاں سے انہیں ان قدرتی ذخائر کے ملنے کی امیدہو سکتی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ ممالک جہاں تیل یا گیس کی تلاش کے سلسلے میں ڈرلنگ ہورہی ہے اپنی انسانی اور ریاستی ذمے داری کو محسوس کرتے ہوئے اور اس جدید تحقیق کی روشنی میں ڈرلنگ کے مقامات کے اطراف میں زیر زمین آبی زخائراورپانی کے کنووں میں موجود پانی کے لیبارٹری ٹیسٹ کروائے تاکہ اس بات کا پتہ چل سکے کہ کہیں وہ پانی مقامی باشندوں کی صحت کے لئے مضر تو نہیں ہے اگر ایسا نہ کیا گیا تو کمپنیز تو بے شمار مالی فوائد حاصل کرکے کسی اور ملک کو روانہ ہوجائیں گی مگر ان علاقوں میںآباد شہری اور انکی آنے والی نسلیں مضر صحت پانی کے استعمال کے باعث خطرناک امراض کا شکار ہوکر اپنی جانوں سے ہاتھ دھوتی رہیں گی۔

تحریر: عبدالخلیل منشی

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated.\nBasic HTML code is allowed.

Latest Blog

  • Techno-Management Fest, TECH TRON’14

    NED University of Engineering & Technology presents National Level Techno-Management Fest, TECH TRON’14  It provides a challenging an excellent platform for showing the practicality of the tech-enthusiastic minds of today’s budding engineers .TECH TRON’s programs provide the strategies, tools and[…]

Science Summer Camp

Latest Video

  • Google's delivery drones experiment Watch Google delivery drone video, Australian farmers receive an airdrop[…]

مقبول خبریں اور مضامین