Share Your Writing

Write your stories on Pakistan Science Club Blog!

Write your stories on Pak Science Club Blog and Portal

Monday, 26 December 2011 17:18

تعلیمی اصلاحات ،تاخیر کی گنجائش نہیں رہی

Rate this item
(1 Vote)
تعلیمی اصلاحات ،تاخیر کی گنجائش نہیں رہی - 5.0 out of 5 based on 1 vote

یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ ملک کے بیشتر سماجی و سیاسی مسائل کی جڑ تعلیم کے نظام میں پائی جانے والی خرابیوں سے ہے، جو کئی لحاظ سے ناکافی اور اصلاحات کا متقاضی ہے۔ تعلیم عملاً ترجیحات کا حصہ نہ ہونے کی وجہ سے سرکاری سرپرستی اور خطیر مالی وسائل مختص کرنے کے باوجود درس و تدریس کے عمل سے متوقع نتائج حاصل نہیں ہو پا رہے اور چونکہ تعلیم کا تعلق براہ راست ہنرمند و تعلیم یافتہ افرادی قوت کی فراہمی سے ہوتا ہے، اس وجہ سے مختلف اداروں کی کارکردگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ سرکاری و غیر سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بڑھتا ہوا فرق، نصاب تعلیم کے الگ رخ اور تعلیم میں طبقات کو مدنظر رکھنے کی حکمت عملیوں کے علاوہ ترقیاتی عمل کے لئے مختص مالی وسائل میں تعلیم سرفہرست نہیں اور بڑھتی ہوئی آبادی و ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلیم کے لئے مختص بجٹ میں سال بہ سال اضافے کی بجائے کمی ہو رہی ہے۔ ملک میں بچوں کی ایک غیرمعمولی تعداد مختلف وجوہات کی بناءپر تعلیم حاصل نہیں کر پاتی اور ظاہر ہے اس کوتاہی کے لئے شعبہ تعلیم سے وابستہ فیصلہ سازوں بشمول عوامی نمائندوں اور سیاسی قیادت کے علاوہ کسی اور کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ذمہ داری اور فرائض کا بوجھ دوسروں کے کندھوں پر ڈالنے سے مسائل کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق ملک میں شرح خواندگی پچاس فیصد کو چھو رہی ہے اور نیشنل ایجوکیشنل پالیسی کے مطابق ملک میں شرح خواندگی بہتر ہونے کی وجہ سے مسلم دنیا کے پینتیس ممالک میں پاکستان کا شمار اکتیسویں نمبر پر ہونے لگا ہے جبکہ عالمی سطح پر ایک سو اسی ممالک میں پاکستان کا نمبر ایک سو چونتیسواں ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک کے پچیس فیصد بچے باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں اور پرائمری کی سطح تک پہنچتے ہوئے زیرتعلیم بچوں کی نصف تعداد سکول چھوڑ دیتی ہے، جس کی تین بڑی وجوہات غربت کے سبب والدین کا بچوں کو تعلیم کی بجائے ہنرمند بنانے کو ترجیح دینا، سرکاری تعلیمی اداروں میں بچوں کو مار کر پڑھانے کا طریقہ کار نفسیاتی طور پر بچوں کو سکولوں سے دور کرنے کا باعث ہے اور ابتدائی سطح پر درس و تدریس کا عمل مادری زبانوں میں نہیں دیا جاتا ہیں۔

علاوہ ازیں ملک کے تمام دیہی علاقوں میں پرائمری، مڈل اور ہائی سکول موجود نہیں۔ خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کے مواقع لڑکوں کے مقابلے میں نسبتاً کم ہیں۔ ماہرین تعلیمی عمل کو درمیان میں خیرباد کہنے والے بچوںکی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہی ہمارے تعلیم کا سب سے بنیادی نقص ہے، جس کی شدت دیہی علاقوں میں سب سے زیادہ ہے۔پاکستان میں پانچ اقسام کے تعلیمی نظام رائج ہیں۔ پرائمری (کلاس اول سے پانچویں تک)، مڈل (کلاس ششم سے ہشتم تک)، سیکنڈری (کلاس نہم و دہم) اور انٹرمیڈیٹ (گیارہویں اور بارہویں) جس کے بعد جامعات کے ذریعے ڈپلومہ یا ڈگری پروگرام میں حصہ لیا جا سکتا ہے۔ ملک میں ہائی سکول کی سطح پر کیمبرج یونیورسٹی کے نصاب کے تحت بھی تعلیم دی جاتی ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملک میں سات سو تیس ٹیکنیکل کالجز اور ووکیشنل انسٹی ٹیوٹس ہیں، جہاں روائتی بنیادی تعلیم کے ساتھ ہنر بھی سکھائے جاتے ہیں تاہم تعلیم کے اِس شعبے کو سب سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔ وزارت تعلیم کی جانب سے بنائی جانے والی 2015ء تک کے لئے تعلیمی پالیسی کے تحت پرائمری سطح پر بچوں کو سو فیصد تعلیم دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور اِس تعلیمی پالیسی کے اختتام پر شرح خواندگی چھیاسی فیصد ہونے کی بھی توقع ہے۔

تعلیم کے شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں جن کی ابتداءیکساں نظام تعلیم کے نفاذ سے ہونی چاہئے۔ آئین پاکستان کے تحت اگر تعلیم سب کا حق ہے تو پھر اس حق سے وہ بھی محروم ہی تصور کئے جائیں گے، جنہیں جدید عصری علوم (انگریزی نصاب) سے دانستہ طور پر الگ رکھا جاتا ہے لیکن انہیں مقابلے کے امتحانوں میں اس پود کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے، جو بالکل مختلف ماحول میں تعلیم حاصل کرکے پروان چڑھی ہوتی ہے۔ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کا دوسرا جز فنی تعلیم کو ترقی دینا ہے۔ فنی تعلیم کے جن اِداروں میں بنیادی تعلیم دی جاتی ہے، اس کا معیار واجبی ہوتا ہے۔ کل کی ضروریات کے لئے ہنرمند افرادی قوت کی تیاری آج سے کرنا ہو گی۔ اصلاحاتی عمل کا تیسرا جز نصاب پر نظرثانی اور ان موضوعات کو شامل نصاب کرنا ہو گا، جن کا عملی زندگی سے واسطہ ہو۔ تعلیم حاصل کرنے کا مقصد زندگی کی حقیقتوں سے آنکھیں چرانا اور خوابوں کی زندگی اختیار کرنا نہیں ہونا چاہئے بلکہ برسرزمین حقائق پر نظر رکھتے ہوئے ایسی تعلیم و تربیت ہو کہ خوبیوں اور خامیوں پر نظر کے ساتھ تعمیری صلاحیتیں ملک و قوم کے کام آ سکیں۔ نصاب تعلیم مرتب کرتے وقت کسی ترقی یافتہ ملک کے تجربات سے سبق تو لیا جا سکتا ہے کہ لیکن ان سے اس حد تک متاثر ہونے کی قطعی ضرورت نہیں کہ اپنی اقدار و اخلاقیات ہی کو قربان کر دیا جائے۔ جدت پسندی انتہاءپسندی ہی کی طرح انتہاءہے، جس کے تخریبی پہلو تعمیری پہلووں کے مقابلے میں زیادہ حساس نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان سے نسلوں کی سوچ و فکر ہی بدل جاتی ہے۔ چوتھے جز میں ہر علاقے اور صوبے کے مخصوص معروضی حالات کو مدنظر رکھا جائے۔ چونکہ تعلیم کا شعبہ ایک عرصہ سے نظرانداز ہے تو اس میں اصلاحات فوری اور جھٹکے سے نہیں بلکہ تحمل سے متعارف کرانا ہوں گی۔ ان زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا ہو گا کہ جن میں کوئی بچہ گھر کی کفالت میں ہاتھ بٹا رہا ہوتا ہے اور ایسی صورت میں جذبات سے نہیں بلکہ ہوش سے متبادل ذرائع آمدن دینا ہوں گے۔ نظام تعلیم میں ایسے بچوں کے لئے گنجائش پیدا کرنا ہو گی جو محنت مشقت سے خاندان کا پیٹ پالتے ہیں یا کسی نہ کسی صورت کنبے کی کفالت کرتے ہیں۔ طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ یکساں نصاب کے نفاذ سے کرنے کے بعد اساتذہ کی تربیت کا مرحلہ سب سے کلیدی ہے، جس میں معلم و معلمات کو ان کی ذمہ داریاں اور عہدوں کی سنجیدہ نوعیت کا ادراک کرایا جائے۔ ملک سے غربت کے خاتمہ سمیت کوئی بھی اصلاحاتی عمل تعلیم کو منہا کر کے مکمل نہیں کیا جا سکتا جس کے لئے اساتذہ کا تعاون اور ان کی استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہو گا۔

برطانیہ میں تمام تعلیمی اداروں کی سالانہ بنیادوں پر جانچ اور معیار کی بنیاد پر انہیں درجات میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی ایسا ہی جائزہ لیا جائے اور تعلیمی اداروں کی کارکردگی (نتائج) اور موجود سہولیات کے علاوہ اساتذہ کی تعلیم، درس و تدریس کے طریقہ کار، نفسیاتی و دیگر عوامل جیسے امور کے لحاظ سے ملک گیر سطح پر تعلیمی اداروں کی درجہ بندی ہونی چاہئے۔ حکمت عملیاں وضع کرنے والے کاغذی کارروائیوں کے ذریعے ایسا نقشہ پیش کرتے ہیں، جس سے ’سب اچھا، دکھائی دیتا ہے لیکن تعلیم کا معیار اور شرح خواندگی کے بلند و بالا اعدادوشمار کے مقابلے میں برسرزمین حقائق متضاد کہانی بیان کر رہے ہیں۔ تعلیم کا شعبہ ملازمت کا نہیں بلکہ مقصد ہونا چاہئے، جس سے وابستہ افراد کو دردمندی کے ساتھ ملک و قوم کے مستقبل کی تعمیر کرنا ہے، اور یہ تعمیر خالصتاً غیر سیاسی بنیادوں پر ہونی چاہئے، کیونکہ تعلیم سب کا حق ہے۔

Source:http://www.technologytimes.pk

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated.\nBasic HTML code is allowed.

Latest Blog

  • SEE 14 Photos

     Student Engineering Exhibition 2014 (SEE’14)  PhotosRelated Posts:Student Engineering Exhibition 2014 SEE’14SENTEC 2013 in PhotosBiogas Plant Running a Tubewell PhotosNAYS Photo Contest Result and EnteriesSEE14 Junior and Senior ProjectsDesign Competition Video

مقبول خبریں اور مضامین