Share Your Writing

Write your stories on Pakistan Science Club Blog!

Write your stories on Pak Science Club Blog and Portal

Featured Project

  • Students Project: Infrared remote control fan regulator
    Students Project: Infrared remote control fan regulator Nfc institute of engineering and fertilizer’s research Faisalabad Group members Sohaib ud din ahmed Muhammad rizwan Awais karim Ali aoun bukhari Infrared remote control fan…
  • How to Make an Ant Farm
    How to Make an Ant Farm How to make an ant colony (Formicarium) An ant farm also called formicarium its a container which is designed primarily for the study of ant…
Wednesday, 21 December 2011 04:10

ذہن کو پڑھنے والی مشین، اب دور نہیں

Rate this item
(1 Vote)
ذہن کو پڑھنے والی مشین، اب دور نہیں - 5.0 out of 5 based on 1 vote

دنیا میں کمپیوٹر سازی کے مشہور ترین اداروں میں سے ایک آئی بی ایم کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مستقبل قریب میں ایسی مشین بنائی جا سکے گی، جس کے ذریعے انسانی ذہن کو پڑھا جا سکے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مشین یہ بھی معلوم کر لے گی کہ انسانی ذہن کن خیالات سے گزر رہا ہے۔ نیو یارک کی اس کمپنی کی ’آئی بی ایم فائیو اِن فائیو‘ نامی یہ پیشن گوئیاں اب تک کی جانے والی تحقیق کی بنیاد پر کی گئی ہیں۔ آئی بی ایم کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں سن 2017ء تک خاصی پیش رفت ہو چکی ہو گی۔

آئی بی ایم کی جانب سے سالانہ تحقیقی جائزے کے حوالے سے پیر کے روز جاری کردہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں یہ معمہ سب سے اہم رہا ہے کہ انسانی ذہن کو کس طرح پڑھا جائے۔ اس سالانہ جائزے میں بتایا گیا ہے کہ آئی بی ایم سے تعلق رکھنے والے سائنسدان اس تحقیق میں مصروف ہیں کہ کس طرح انسانی ذہن کو کمپیوٹر سے منسلک کر دیا جائے بلکہ ویسے ہی جیسے کمپیوٹر کو کمپیوٹر سے جوڑا جاتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس طرح صرف سوچ کر کسی شخص کو ٹیلی فون کیا جا سکے گا یا بغیر کسی آلے کے کمپیوٹر اسکرین پر کرسر کو حرکت دی جا سکے گی۔ اس تحقیقی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ اس کے لیے ایک راستہ انسانی ذہن کی سوچ کے ساتھ ساتھ چہرے کے بدلتے تاثرات اور آنکھوں کی حرکت بھی ہو سکتی ہے۔

اس رپورٹ میں حوالہ دے کر کہا گیا ہے کہ بیالوجیکل میک اپ انسانی شناخت میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے جبکہ خصوصی سکین کے ذریعے کمپیوٹر انسانی چہروں اور آوازوں میں فرق کر سکتا ہے، اس لیے مستقبل قریب میں پاس ورڈ یا خفیہ اعداد اور الفاظ کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔

’’فرض کریں آپ کسی اے ٹی ایم مشین تک پہنچیں۔ اپنا نام بتائیں اور ایک چھوٹے سے سینسر کی طرف دیکھیں اور کمپیوٹر آپ کی آنکھوں کے ریٹینا سے آپ کی شناخت کی تصدیق کر دے اور آپ رقم لیتے ہوئے واپس لوٹ آئیں۔ اسی طرح آپ کمپیوٹر یا اپنے ٹیبلٹ پر اپنا اکاؤنٹ بھی دریافت کر لیں۔‘‘

Source:http://www.dw-world.de/dw/article/0,,15613821,00.html

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated.\nBasic HTML code is allowed.

Latest Blog

  • Science for Youth (S4Y) week

    The National Academy of Young Scientists in Pakistan (NAYS) is going to celebrate this first Science for Youth week in Pakistan from 14th to 20th April. The themes reflect the importance of active participation of students and researchers. The Science[…]

Science 4 Youth Science Week

Latest Video

  • Hovercraft made by PSC Members in 2006 Hovercraft made by PSC Members in 2006 at Srfaraz pilot[…]

IEEE Karachi Section Workshop and Science Fair