Home خبریں لاکھوں سال پرانے پری ڈیٹر کی باقیات کی دریافت
Monday, 12 December 2011 03:42

لاکھوں سال پرانے پری ڈیٹر کی باقیات کی دریافت

  • There have been no interactions within our database between Cialis and Cymbalta canadian pharmacy. " Should you be a drug company, the top product in the worldWEDNESDAY, June &ndash Older men in poor health who use testosterone gel to enhance their mobility may raise their likelihood of hypertension or cardiac arrest, new research suggests buy cialis overnight delivery.
    argaiv1660

Rate This Article
(1 Vote)

آسٹریلوی سائنسدانوں نے ایک قدیمی حملہ آور یا پری ڈیٹر کی باقیات کو دریافت کیا ہے۔ اس پری ڈیٹر کی جسامت ڈیڑھ انچ سے بھی کم ہے اور اس کی ہیئت شیل فِش جیسی ہے۔

آسٹریلوی ریسرچرز کا خیال ہے کہ انتہائی چھوٹی جسامت والا پری ڈیٹر بنیادی طور پر سفید شارک کی ابتدائی صورت تھی۔ قدیمی ارضیاتی دور میں  یہ افزائش پانے کے بعد سفید شارک کا روپ دھارتا تھا۔ اس حیاتیاتی دور کو کمبری عہد کہا جاتا ہے۔ کمبری دور میں سفید شارک کی زیادہ سے زیادہ لمبائی امکاناً ایک میٹر تک ہو سکتی تھی۔ آنومالوکارِس کی حیات کا دارو مدار سمندری حیات پر تھا۔

اس شیل فش جیسے پری ڈیٹر کی غیر معمولی بڑی آنکھ میں سولہ ہزار عدسوں کا سراغ بھی ملا ہے۔  اس مخلوق کو سمندری حیات پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے آنومالوکارِس (Anomalocaris) کا نام دیا ہے۔ اس کا سراغ آسٹریلوی جزیرے کینگرو سے ملا ہے۔ اس دریافت کا سہرا جان پیٹرسن کی ٹیم کو حاصل ہوا ہے۔  آنومالوکارِس کو دریافت کرنے والی ٹیم کے سربراہ جان پیٹر سن کا تعلق آسٹریلیا کی نیو انگلینڈ یونیورسٹی سے ہے۔

محقق پیٹرسن کے مطابق آنومالوکارِس کے بارے میں یہ حتمی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ صاف پانی میں رہنے کا عادی تھا۔ اس کے علاوہ کھلی روشنی بھی اسے مرغوب تھی۔ گہرے پانیوں میں بھی اپنے شکار کو پہچاننے میں اس کو مشکلات کا سامنا نہیں ہوتا تھا۔ پیٹرسن کے مطابق اس قدیمی ارضیاتی دور کمبری کے پریڈیٹر کا دفاعی نظام بھی خاصا فعال تھا۔

پیٹرسن کا یہ بھی کہنا ہے کہ آنومالوکارِس کے فوسلز اس سے قبل کینیڈا اور چین سے بھی دستیاب ہوئے تھے لیکن ان میں آنکھ پوری طرح محفوظ نہیں تھی اور اس باعث مزید تحقیق ممکن نہیں ہو رہی تھی۔

کسی جانور یا کیڑے جیسی مخلوق کی آنکھ میں عدسوں کی تعداد کے حوالے سے سب سے زیادہ عدسے بھنبھیری جیسی ڈریگن فلائز میں پائے جاتے ہیں اوران کی تعداد تیس ہزار کے قریب ہے۔ گھروں میں پائی جانے والی مکھی کی آنکھ میں چھ ہزار کے قریب عدسے ہوتے ہیں۔ آنومالوکارِس کی دور رس نگاہوں میں سولہ ہزار عدسوں کا پتہ چلا ہے۔

گریٹ  سفید شارک کئی سمندروں میں پائی جاتی ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ لمبائی پانچ میٹر تک معلوم ہوئی ہے۔ سفید شارک پندرہ سال کی عمر میں بالغ ہو نے کے بعد مزید پندرہ برس کی طبعی عمر پاتی ہے۔ قریب بیس فٹ تک لمبائی کی حامل طویل اور بھاری جثے کی یہ سمندری مخلوق پونے تین ہزار کلو گرام سے زائد وزن رکھتی ہے۔

کینگرو جزیرہ، آسٹریلیا کا تیسرا بڑا جزیرہ ہے اور یہ خلیج سینٹ ونسینٹ کے دہانے پر واقع ہے۔ اس جزیرے کو آسٹریلیا کے قدیمی باشندے ابارجنیز یا Aborigines  مُردوں کا جزیرہ قرار دیا کرتے تھے۔ یہ ہزاروں سال قبل آسٹریلوی سرزمین کے ساتھ منسلک تھا لیکن سمندری سطح بلند ہونے کے بعد یہ ایک علیحدہ جزیرہ بن گیا۔ اس کے کچھ علاقوں پر اب سیاحوں کی آمد و رفت رہتی ہے۔ یہ جزیرہ دنیا کے ناپید ہوتے سب سے چھوٹے پینگوئن کا گھر بھی ہے۔

source:http://www.dw-world.de/dw/article/0,,15589147,00.html

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated.
Basic HTML code is allowed.

تازہ ترین سائنسی مضامین

تازہ ترین سائنسی خبریں