Share Your Writing

Write your stories on Pakistan Science Club Blog!

Write your stories on Pak Science Club Blog and Portal

Saturday, 26 November 2011 14:01

ڈاکٹر عطا الرحمن کی تعلیمی خدمات

Rate this item
(1 Vote)
ڈاکٹر عطا الرحمن کی تعلیمی خدمات - 5.0 out of 5 based on 1 vote

سابق وفاقی وزیر برائے سائنس، ٹیکنولوجی و انفورمیشن ٹیکنولوجی اور سابق چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر عطاالرحمن کہتے ہیں کہ اگر ہم دور حاضر میں عزت کے ساتھ جینا چاہتے ہیں تو ہمیں علم کے میدان میں چار ستونوں پر کام کرنا ہوگا۔ یہ چار ستون پرائمری، سیکنڈری، ٹیکنکل اور ہائر ایجوکیشن پر مبنی ہیں۔ ہماری پرائمری، سیکنڈری اور ٹیکنکل ایجوکیشن اس وقت نزع کے عالم ہے جبکہ ہائر ایجوکیشن کے حوالے سے ان کے دور میں بڑے پیمانے پر کام کرنے کی وجہ سے صورتحال کچھ بہتر ہوئی ہے۔

ڈاکٹر عطا الرحمن کے مطابق پورے پاکستان میں ایک سال میں جتنے پی ایچ ڈی ااسکالر تیار کیے جاتے ہیں بھارت کے دہلی انسٹیٹیوٹ میں ایک سال میں اس سے کہیں زیادہ اسکالرپی ایچ ڈی کرکے فارغ التحصیل ہوتے ہیں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بھارت کہاں کھڑا ہے اور ہم کہاں لیٹے ہیں۔ پنڈت جواہر لعل نہرو نے آج سے چالیس سال قبل بھارت میں انفورمیشن ٹیکنولوجی اور تحقیقی ترقی کی بنیادرکھی تھی۔ آج بھارت کی انفورمیشن ٹیکنولوجی کی برآمدات کم سے کم 60 ارب ڈالر سے زائد ہے۔

ڈاکٹر عطا الرحمن کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے وزارت سائنس وٹیکنولوجی سنبھالی تھی تو پاکستان کی برآمدات 30 ہزار ڈالر تھی جس کا حجم بتدریج بڑھا کر ایک ارب ڈالر تک پہنچا دیا گیا۔ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ہماری تمام سیاسی جماعتوں کی ترجیحات میں تعلیم یا تو آخر ی نمبرپر ہے یا پھر ان کے ایجنڈے میںشامل ہی نہیں ہے۔ڈاکٹر عطا الرحمن کے مطابق اس وقت جی ڈی پی کا ایک اعشاریہ آٹھ فیصد تعلیم پر خرچ ہو رہا ہے جبکہ دنیا کے دیگر ممالک کم از کم دس فیصد رقم تعلیم کے لیے مختص کرتے ہیں۔

ملائشیا نے ڈاکٹر مہاتیر محمد کی سربراہی میں آج سے تیس سال قبل تعلیم کے لیے تیس فیصد بجٹ مختص کیا اور آج یہ صورتحال ہے کہ اکیلا ملائشیا ہائی ٹیکنکل پروڈکٹ کی 87 فیصد برآمدات کر رہا ہے جبکہ باقی 56 اسلامی ممالک مل کر صرف 13 فیصد برآمدات کررہے ہیں۔ ڈاکٹر عطاالرحمن نے کہا کہ آج کا دور علم، سائنس، ٹیکنولوجی، تحقیق اور ستاروں پر کمندیں پھینکنے کا دور ہے جبکہ ہم اپنی قبر اپنے ہاتھوں سے کھود رہے ہیں ملک میں پائی جانے والی جہالت، خودکش دھماکوں، مذہبی تشدد، غیرت پر کیے جانے والے قتل اور تمام معاشرتی برائیوں کا خاتمہ صرف او رصرف اچھی تعلیم کے ذریعے کیا جاسکتاہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ تعلیم ایسے تجربات کی تعمیرِ نو کا نام ہے کہ جو فرد اور سماج دونوں کی ترقی اور بہتر کارکردگی کے ضامن ہوں۔ تعلیم سماج کا ایک خود اختیاری آلہ کار ہے جس پر نہ صرف فرد بلکہ بنی نوع انسان کی ضرورتیں، ترقی اور نصب العین کے حصول کا دارومدار ہوتا ہے۔ تعلیم کے ذریعہ تہذیب و ثقافت زندہ رہتی ہے۔ لہٰذا سماج کے مشاغل میں تعلیم سب سے اہم عنصر ہے۔

اکیسویں صدی میں تعلیم کی اہمیت پہلے کی نسبت زیادہ تسلیم کی جا رہی ہے۔ آج کی زندگی میں تعلیم سب سے زیادہ اہم اقتصادی مسئلہ ہے۔ آج کے ترقیاتی دور میں تعلیم کے بغیر انسان ادھورا ہے۔ چنانچہ تعلیم کسی بھی قوم کے لئے لازمی ہے اور اس کا حکومتی سطح پر فروغ ضروری ہے۔

قارئین ڈاکٹر عطاالرحمن سے کسی نے سوال پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ ڈاکٹر عطاالرحمن، جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان، عمران خان اور دیگر تمام ایماندار اور شفاف لوگ مل کر ایک اتحاد تشکیل دیتے ہوئے سیاسی تبدیلی کی کوشش کیوں نہیں کرتے۔ اس پر ڈاکٹر عطا الرحمن ہنس پڑے اور انہوںنے شگفتہ انداز میں کہا کہ اگر وہ الیکشن میں کھڑے ہوئے تو وہ یقین دلاتے ہیں کہ ان کی تعلیمی کامیابیوں کی طرح اس میدان میں ان کی ریکارڈ شکست ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کے مایہ ناز ایٹمی سائنسدان ہیں اور اسی طرح وہ بذات خود پی ایچ ڈی ان آرگینک کیمسٹری ہیں اس طرح ہم دونوں کا میدان تعلیم، سائنس اور ٹیکنولوجی ہے۔ پاکستانی حکومت چاہے تو ہم دونوں آج بھی اپنے ملک وقوم کے لیے ہر طرح کا کام کرنے کے لیے تیارہیں اور ہمیں نہ تو کسی معاوضے کی ضرورت ہے اور نہ ہی صلے اور ستائش کی تمنا۔

تعلیم اور سائنس و ٹیکنولوجی میں ڈاکٹر عطا الرحمن کی خدمات ہمیشہ ہی قابل تحسین رہی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے پاکستان کے وہ پودے اور جڑی بوٹیاں جن سے دوائیاں بنائی جا سکتی ہیں ،ان کے کیمیائی اجزاءپر تحقیق کی اور 425 نئے قدرتی اجزاءدریافت کیے۔ بین الاقوامی جرنلز میں ڈاکٹر عطا الرحمن کے 380 تحقیقی کالم شائع ہوئے۔ 1987ء میں ڈاکٹر عطا الرحمن کو سائنسی خدمات کے اعتراف میں کیمبرج یونیورسٹی کی جانب سے ڈاکٹر آف سائنس کی ڈگری سے نوازا گیا۔ ڈاکٹر عطا الرحمن پاکستان میں کام کرتے ہوئے یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے سائنسدان ہیں۔

پروفیسر عطا الرحمٰن نے 51 کتابوں کو تحریر و تصحیح کے مرحلے سے گزارا، کیمسٹری کے مضمون پر پاکستان کی وہ پہلی کتاب جو باہر کے ممالک میں شائع اور خریدی گئی وہ بھی انھوں نے ہی لکھی تھی۔ ان تحقیقات کی بدولت کئی پاکستانی طالبعلم اپنا پی ایچ ڈی مکمل کر چکے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن کو سائنسدانوں کی اس کتاب میں دستخط کرنے کا بھی اعزاز حاصل ہے جس میں نیوٹن اور آئن سٹائن جیسے سائنسدانوں کے دستخط شامل ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمٰن کامسٹیک کے کو آرڈینیٹر جنرل بھی رہ چکے ہیں۔

حال ہی میں پاکستانی سائنسدانوں نے جینیاتی تاریخ میں ایک نیا کارنامہ سرانجام دیتے ہوئے جنییاتی مادے کا نقشہ تیار کرلیا ہے۔ اس حوالے سے پروفیسر ڈاکٹر عطاءالرحمان کا جینوم ڈی کوڈ کیا گیا ہے۔ اس تجربے کے لئے ڈاکٹر عطا الرحمن نے خود اپنے آپ کو پیش کیا۔ اس جینیاتی نقشے کی تیاری میں دس ماہ لگے اور اس پر چالیس ہزار ڈالر خرچ ہوئے۔ اس تاریخی کارنامے کے بعد پاکستان انتہائی چیدہ ممالک امریکہ برطانیہ چین جاپان اور بھارت کی صف میں شامل ہوگیا ہے۔ اس تجربے کے ذریعے کسی بھی شخص کے بارے میں ہر طرح کی معلومات حاصل کی جاسکتی ہے کہ اس شخص کے آبا واجداد کا تعلق کہاں سے تھا؟ اسے کون کون سی بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں؟ اور کون کون سے دماغی پیچیدگیاں یا جسمانی تبدیلیاں واقع ہوسکتی ہیں؟ پاکستان اس سائنسی منصوبے پر کام کرکے دنیا کا چھٹا ملک بن گیا ہے۔

یونیورسٹی آف ٹیکنولوجی مارا ملائشیا کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرحامد ابو بکر کے مطابق ڈاکٹر عطا الرحمن نہایت قابل انسان ہیں اور یونیورسٹی آف ٹیکنولوجی نہ صرف ان کے نام پر ملائشیا میں سائنسی مرکز قائم کریگی بلکہ انکی اعلیٰ تعلیم اور سائنس کے شعبے میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں انھیں اعزازی ڈگری بھی عطا کریگی۔

حکومت کو چاہیئے کہ وہ ملک کی قابل شخصیات کے ساتھ اچھا برتاﺅ رکھے اور اس سے ملک کے فائدے کے لئے کام لے تاکہ ملک کی ترقی و بھلا ہو سکے، بیرونی دباﺅ میں آنے سے ملک کی ترقی نہیں ہو گی بلکہ ملک ترقی سے تنزلی کی طرف چلا جائے گا۔ حکومت اور پاکستان کی بھلائی اسی میں ہے کہ قابل شخصیات جیسے ڈاکٹر عبداقدیر خان ، ڈاکٹر عطا الرحمن اور دیگر کی رائے کو بھی اہمیت دی جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔ ہمارا ملک متعدد بحرانوں میں مبتلا ہے جس کو انہی ماہرین کی رائے سے حل کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے توانائی کے متعدد منصوبوں بڑی کامیابی سے مکمل کیئے ہیں۔ انہیں چند اور منصوبے کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس کے علاوہ دیگرشخصیات کو بھی ان کی استعداد کے مطابق کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ پاکستان کو بیرونی صرف پیسے کی نہیں بلکہ قابل لوگوں کی بھی ضرورت ہے۔ ہم ترقی یافتہ ملک و قوم بننے کے لئے قابل لوگوں کی ضرورت ہے۔

source: www.technologytimes.pk

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated.\nBasic HTML code is allowed.

Latest Blog

  • SEE 14 Photos

     Student Engineering Exhibition 2014 (SEE’14)  PhotosRelated Posts:Student Engineering Exhibition 2014 SEE’14SENTEC 2013 in PhotosBiogas Plant Running a Tubewell PhotosNAYS Photo Contest Result and EnteriesSEE14 Junior and Senior ProjectsDesign Competition Video

مقبول خبریں اور مضامین