Share Your Writing

Write your stories on Pakistan Science Club Blog!

Write your stories on Pak Science Club Blog and Portal

Monday, 21 March 2011 14:32

گرین ہاﺅس گیسز: احتیاط و تدارک

Rate this item
(0 votes)

گرین ہاﺅس گیسز: احتیاط و تدارک

 

پاکستان کا شمار ماحول کی آلودگی کا سبب بننے والی گرین ہاﺅس گیسزپیدا کرنے والے پچیس بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔ اس فہرست میں امریکہ سرفہرست ہے جبکہ یورپی یونین دوسرے، چین تیسرے، روس چوتھے اور بھارت پانچویں نمبر پر ہے۔ گرین ہاو¿س گیسز میں درحقیقت 6 عدد گیزشامل ہوتی ہیں جیسے میتھین گیس، نائٹرس آکسائیڈ اور کاربن ڈائی آکسائیڈ وغیرہ۔ ان میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
پاکستان میں ہر سال لاکھوں من الیکٹرونک کوڑا جس میں کمپیوٹر ، مانیٹر ، کی بورڈ ،موبائل فون ،ٹی وی ، ریفریجریٹرز اور دیگر اشیاءشامل ہیں آتا ہے جو ری سائیکلنگ کے عمل سے گزرتے ہوئے نہ صرف خارج ہونے والی انتہائی مہلک گیسوں کی وجہ سے کینسر جیسے موذی امراض کے پھیلاﺅ کا سبب بن رہا ہے بلکہ فضائی اور زمینی آلودگی میں اضافہ کر رہا ہے۔ اس کوڑے سے نکلنے والی سونا اور چاندی جیسی قیمتی دھاتوں کے لالچ میں مقامی تاجر اس کوڑے کے نقصانات سے بے خبر ہےں۔
ایک اندازے کے مطابق ستائیس کلو کمپیوٹر کے کوڑے میں سے پلاسٹک 6.26کلو، لیڈ1.72کلو، سیلیکا 6.8کلو، ایلمونیم 3.86کلو، لوہا 5.58کلو ، تانبہ 1.91کلو، نکل 0.23کلو، زنک 0.6کلو، ٹن 0.27کلو گرام نکلتی ہے جبکہ سونا ، چاندی ،آرسینک ، مرکری ، انڈیم ، یٹیریم ، ٹیٹا نیم ، کوبالٹ ، کرومیم ، کیڈ میم ، سیلینیم ، بیریلیم ،ٹیٹا لم ، ویناڈیم اورایروپیم کی بھی خاصی مقدار نکلتی ہے۔ کمپیوٹر اور دیگر اشیاءکے کوڑے کو جب نمک اور گندھک کے تیزاب کے علاوہ پوٹاشیم سائینائیڈ جیسے خطر ناک کیمیکل سے پگھلایا جاتا ہے تو اس کیمیائی ردعمل کے نتیجے میں انتہائی مہلک گیسز خارج ہوتی ہے۔ ری سائیکلنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی زہریلی گیسوں سے نہ صرف انسان بلکہ حیوانات ، پرند اور دریائی مخلوق پر بھی مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
فضا میں میتھین گیس میں اضافے کا ایک بڑا محرک گائے کو بھی سمجھا جاتا ہے ۔گائے کے ڈکار سے فضا میں میتھین گیس شامل ہوتی ہے، جو فضائی درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ تحفظ ماحول پر کام کرنے والے سائنسدانوں کے مطابق میتھین گیس ماحول کے لئے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی نسبت بیس گنا زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق گوشت کے لئے پالے جانے والے جانوروں کے فارمز سے فضا میں ماحول دشمن گیسوں کا اخراج ذرائع آمد و رفت سے خارج ہونے والی گیسوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔
جانوروں کی پیداوار سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ گرین ہاو¿س گیسز کا اخراج کم کرنے کے اور بھی طریقے ہوسکتے ہیں مثلاً ایسے جانوروں کا استعمال کیا جائے جن کے جین میں تبدیلی کی جاتی ہے اور یہ جانور کم گرین ہاو¿س گیسز خارج کرتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ فارمنگ کے ذریعے ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے چہ جائیکہ یہ پریشانی بن جائے۔
پاکستان میںاکثر جگہوں پر اسکریپ کو جلایا جاتا ہے جس سے سانس لینا دوبھر ہوتا ہے جس سے کھانسی ، دمہ اور جلد کی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔ اسکریپ کا کام پاکستان میں سب سے زیادہ گوجرانوالہ اور شیخوپور ہمیں ہوتا ہے۔ شیخوپورہ روڈ پر بڑی بڑی فیکٹریاں دن رات موت کا د±ھواں اگل رہی ہوتی ہیں مگرکوئی روک تھام کرنے والا نہیں ہے۔
پاکستان میں کمپیوٹر اسکریپ کے علاوہ دیگر قسم کی پلاسٹک بھی درآمد ہو رہی ہے جس میں متعد د یورپی ملٹی نیشنل فوڈ کمپنیوں کی اسکریپ ریپر کی شکل میں درآمد ہو رہی ہے۔ اس میں جعلی کھانے پینے اور خصوصاً بچوں کی چاکلیٹ ، ٹافی اور گولیاںپیک کر کے بازاروں اور مارکیٹوں میں فروخت ہوتی ہیں جس سے بچوں میں نت نئی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔
پاکستان کے بعض شہروں میں پلاسٹک کے اسکریپ سے پلاسٹک دانہ بنانے کا کام بھی کیا جارہا ہے۔ تمام شہروں میں پلاسٹک کا یہ کوڑا جگہ جگہ نظر آتا ہے جس کو بعض پلاسٹک کا کام کر نے والے افراد خرید کر پگھلاتے ہیں تاکہ اس سے تیار ہونے والے پلاسٹک دانہ سے دیگر چیزیں بنائی جائیں۔ اس کوڑے کو نہ صرف کھلی جگہوں پر جلاتے ہیں بلکہ مختلف کیمیکلز میں ڈال کر اس سے دھاتیں علیحدہ کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق صرف لاہور کے گردونواح میں ہر ماہ 25سے30ٹن پلاسٹک نکالا جاتا ہے اور بتدریج اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے یہی حال دیگر شہروں کا بھی ہے ،اس سکریپ سے دیگر مصنوعات بنائی جاتی ہیں جبکہ اس سے نکلنے والے فاضل مادے کو نالوں اور ندیوں میں بہا دیا جاتا ہے اور فضا گندی ہونے کی وجہ سے سانس اور گلے کی دیگر بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں۔ نوزائیدہ بچوں میں جسمانی نقائص بھی پیدا ہوتے ہیں۔ فیکٹریوں میں کام کرنے والے ملازمین کی اکثریت ان بیماریوں میں مبتلا ہوتی ہے۔شمسی توانائی کی مدد سے کھانا پکانے والے پریشر کک±ر کا استعمال عمل میں لاےا جائے تو دنیا کے تین ارب سے زائد غریب عوام بغیر لکڑیوں یا کوئلہ کھانا پکا سکیں گے اور اِس طرح کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی واقع ہو جائے گی۔

Source: Technologytimes

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated.\nBasic HTML code is allowed.

Latest Blog

  • SEE 14 Photos

     Student Engineering Exhibition 2014 (SEE’14)  PhotosRelated Posts:Student Engineering Exhibition 2014 SEE’14SENTEC 2013 in PhotosBiogas Plant Running a Tubewell PhotosNAYS Photo Contest Result and EnteriesSEE14 Junior and Senior ProjectsDesign Competition Video

مقبول خبریں اور مضامین